پہاڑی علاقہ اور پھر قبائلی رسم و رواج کسی ایک قبیلے میں بسنے والے تمام
لوگوں میں تقریباً ایک ہی طرح پائے جاتے ہیں۔ میں اسی طرح تھا جیسے میرے قبیلے کے
باقی لوگ۔ اس قبیلے کے باقی بچوں کی طرح صبح میں سکول جانے سے پہلے بھیڑ بکریوں کو
چراگاہ پہنچاتا۔ ساتویں جماعت تک یہی سلسلہ جاری رہا۔ ایک دن اچانک خیال آیا کہ
مجھے ان سب لوگوں سے کچھ مختلف ہونا چاہیے۔ انفرادیت کو پانے کیلیے میں نے پڑھائی
کی طرف زیادہ توجہ دینی شروع کی۔ پھر مجھ پر یہ بات عیاں ہو گئی کہ پڑھائی پر توجہ
دینے والے میرے جیسے بہت سے طالبعلم اسی سکول میں موجود ہیں۔ اس انفرادیت کی دھن
میں آٹھویں کے بعد میں اپنے دیہات کے سکول کو چھوڑ کر ایک شہر کے سکول میں آکر
پڑھنا شروع کیا۔ اگرچہ اب میں دیہاتی بچوں سے تو مختلف تھا لیکن پھر بھی سکول میں
پڑھنے والے بچے مجھ جیسے ہی تھے۔ کالج کی زندگی میں ، میں نے ایک نئے فارمولے پر
غور کرنا شروع کیا اور فارمولہ یہ تھا کہ میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر
نصابی سرگرمیوں
میں بھی بھرپور حصہ لوں گا اور کتابوں کو لفظ با لفظ رٹنے کی بجائے سمجھ کر پڑھوں گا۔
میں بھی بھرپور حصہ لوں گا اور کتابوں کو لفظ با لفظ رٹنے کی بجائے سمجھ کر پڑھوں گا۔
شاید میں نے کالج کی زندگی میں ایسے ہی کیا، یقیناً میں نے ایسے ہی کیا۔ پروفیسرز
نے میری حوصلہ افزائی کی اور میں کسی حد تک تمام کالج کے بچوں سے مختتلف ہو گیا۔
میں اسی انفرادیت کے بارے میں سوچ کر زیادہ خوشی بھی نہیں منا سکا تھا کہ ایف ایس
سی کا رزلٹ آیا جس نے ثابت کیا کہ بہت سے بچے ایسے ہیں کہ جن کے نمبر اتنے ہی تھے
جتنے میرے۔
میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اور ابو نے
گاؤں کی زمین بیچ کر مجھے ایک گاڑی بھی خرید کر دی۔ یونیورسٹی کا ماحول اور پھر مخلوط تعلیمی نظام
نے ہر لڑکے کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ " ڈگری کے ساتھ لڑکی بھی لے کر جائیں
گے " ۔ میں بھی اسی صف میں شامل تھا۔
چند دنوں بعد میں کچھ لوگوں سے مختلف ضرور ہوگیا کونکہ ایک لڑکی سے میری دوستی
ہو گئی۔ لیکن اس جیسے زیادہ نہیں تو یونیورسٹی میں کم لوگ ضرور تھے۔
ایک دن میں لڑکی کو ساتھ لے کر ایک فائو سٹار ہوٹل کی طرف روانہ ہو گیا۔ ہم نے
کھانا کھایا ۔ پھر بیٹھ کر پرانے وعدوں کی اعادہ کے بعد کچھ نئے عہد و پیمان بھی
کیے۔ اب ہم ہوٹل سے لوٹ رہے تھے۔
ہم نے تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ میری گاڑی خراب ہو گئی۔ میں نے ایک مکینک
کو آواز دی میرے بلاوے پر ایک لڑکا نمودار ہو گیا۔ میں نے اس جیسا منور چہرہ کبھی
نہیں دیکھا۔ کام کرنے کی وجہ سے اس کا سفید چہرہ سرخ پڑ رہا تھا لیکن پھر بھی چہرے
کی چمک ماند نہیں پڑ رہی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی میں موجود لڑکی باہر نکل کر مکینک لڑکے کے سااتھ کھڑی
ہو گئی۔
گاڑی تیار ہو گئی ، میں نے گاڑی میں بیٹھ کر اسے آواز دی ، وہ لڑکی وہیں کھڑی
رہی اور بولی " اب میں آپ کی محبوبہ نہیں ، بلکہ یہ میرا محبوب ہے۔ "
میں شکست خوردہ ذہنیت کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے روانہ ہوا کہ ' ہمارے معاشرے میں
منفرد لوگ کیسے کیسے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ '
پرویز کریم۔
@PervaizKareem

1 comments:
godspeed. It was pleasure reading your "munfarid tehreer"
Post a Comment