اپنے پیارے دوست عمران کا اترا چہرہ دیکھ کر مجھے پچھلے سال کا ایک واقعہ یاد آیا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے والد صاحب بہت زیادہ بیمار ہوئے تھے۔ ہر گھنٹے بعد ان کا بلڈ پریشر اور ٹمپریچر
چیک کرنا پڑتا تھا۔ پہلے دن تو نرس اور
ہاوس جاب پر موجود ڈاکٹر یہ کام کرتے رہے ، پھر میں نے انہیں بتایا کہ آپ زحمت نہ
کریں یہ دونوں کام میں خود کر سکتا ہوں ۔ اس کے بعد ایک ہفتے تک میں اپنے والد
صاحب کے ساتھ رہا اور اللہ کی مہربانی سے ان کی طبیعت بہتر ہوتی گئی۔
ایک دن دوپہر کا وقت تھا میں ہسپتال کی مسجد سے نماز پڑھ کر
باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ادھیڑ عمر
شخص کو ویل چئیرپر وارڈ کے ایمر اجنسی روم کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ میں بھی ان
کے ساتھ چل پڑا۔ اس صاحب کو سانس کی تکلیف تھی اور دن کو فیکٹری میں کام کرتے ہوئے
تکلیف بڑھ گئی اور بے ہوش ہو گئے۔ آکسیجن
دینے کے بعد ہوش آیا اور جلد ہی سٹیبل ہو
گئے۔ اب وہ زیادہ سیریس حالت میں نہیں تھے لیکن پھربھی وقتا" فوقتا" ان
کو دیکھنا ضروری تھا۔ کیونکہ ان کے ساتھ کوئی اور آدمی دیکھ بھال کرنے کیلیے نہیں
تھا نرس اور ڈاکٹروں نے مجھےاس کو دیکھنے کا کہا۔
اس مریض کو بھی اسی کمرے میں منتقل کیا گیا جہاں پہلے سے
میرے والد صاحب موجود تھے۔ ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد ان کی حالت بالکل ٹھیک ہوئی اور
مجھ سے گپ شپ کرنے لگے۔ سامنے اخبار پڑا ہوا تھا ، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آج
کی نئی خبر کیا ہے؟ میں نے پہلے انہیں شہ
سرخی اور پھر پانچ ، چھے کالمی سرخیوں میں
لکھی خبریں پڑھ کر سنائیں ۔ یہ الیکشن کا وقت تھا اور تمام خبریں الیکشن سے متعلق ہی تھیں۔ میں نے ان خبروں پر تجزیہ کرنا چاہا لیکن وہ مجھے ٹوک کر خود ایک مبصر کے
طور پر باری باری تمام خبروں پر اپنی رائے
دینے لگے۔ ان کے مطابق بھٹو کے بعد پاکستان میں سیاست ختم ہو گئی۔ ان کے خیال میں
بھٹو نے کچھ سنگین غلطیاں کی لیکن پھر ان کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے
تھا۔ وہ انتہائی ہنس مکھ آدمی تھے، اس
بیماری کے باوجود وہ ہر فقرہ مسکراتے ہوئے بول رہاتھا۔
اب میری ان کی ساتھ اچھی خاصی " انڈرسٹینڈنگ" بن
چکی تھی۔ مغرب کے وقت میں ان کے لیے کھانا لے کر آیا۔ یہ مجھے بعد میں احساس ہو ا
کہ ان کیلیے کم روٹیاں لا کرمیں نے ان کے
ساتھ ظلم کیا۔ کھانا کھانے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بات کرنا چاہتا
ہوں آپ مجھے اپنے موبائل سے نمبر ملا کر
دیجیے، میں نے ان کو نمبر ملا کر دیا ، انہوں نے پہلے اپنی بیوی کو تمام تر تفصیلات
سے آگاہ کیا اور پھر اس سے کہا کہ اگر آپ میرے پاس آؤ تو یہ اچھی بات ہو گی۔ انہوں
نے مزید کہا، پھر آپ بھی تو کچھ بیمار ہو ، آئیں میرے
ساتھ بھی رہیں اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ کریں۔ اس نے شاید یہ کہا کہ میں دیکھونگی اگر
آ سکی تو کل آؤنگی ورنہ تم جب مکمل صحت یاب ہو جاؤ تو گھر آجانا۔ سرور نے ایک
مربتہ پھر مسکراتے ہوئے کہا " ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، جیسے 'آپ 'مناسب سمجھو"
۔ پھر اس نے اپنے چھوٹے بیٹے سے کچھ باتیں
کیں۔ (نہیں مجھے بیلنس کی فکر نہیں تھی،
یہ آپ سوچ رہے ہیں)
کل صبح جب میں نماز کیلیے اٹھا ، بلکہ انہوں نے ہی مجھے
اٹھایا، وہ ایک دم ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔
نماز کے بعد تھوڑی دیر کیلیے آرام کیا ، اور پھر میں ناشتہ لے
کر آیا۔ ناشتہ کے بعد انہوں نے مجھے پھر نمبر ملانے کا کہا میں نے نمبر ملایا تو
وہ نمبر کسی اور کال پر مصروف ملا۔ دس منٹ بعد اس نے پھر ملانے کا کہا مگر وہ پھر
بھی مصروف، میں نے اسے بتایا تو اس نے کہا
وہ اپنے والدین سے بات کر رہی ہوگی۔ ایک
گھنٹے تک نمبر مصروف رہا اور ہر بار سرور صاحب
مسکرا کر یہی کہتے تھے کہ ہفتے میں ایک دفعہ بات کرتی ہے ماں سے تو لمبی
بات کرتی ہو گی۔ پھر اس کے بعد شام تک
نمبر بند رہا۔ اور مغرب کے بعد جب نمبر مل
گیا تو وہ بات کرنے کمرے سے باہر گئے۔ چند
منٹ ہی گزرے تھے کہ وہ واپس آئے اور ان کی آنکھیں نم تھیں، انہوں نے مجھے سیٹ واپس
کیا ۔ اب مجھے نہیں معلوم اور کیا باتیں ہوئی ہونگی، میں نے تو ایک بات سنی کہ وہ
کہہ رہی تھی " آپ کو کیا مسئلہ ، اب بار بار فون کرنے کی کیا ضرورت اور وہ
بھی اوروں کو نمبر دے دے کر" ۔۔۔
پچھلے جمعے سے عمران کی بھی یہی حالت ہے۔ وہ شاید کسی سے
رابطہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کر نہیں پا رہا اور دوسری طرف سے بھی کوئی ریسپونس نہیں
ہے۔ میں بار بار اپنے دوست کو امیر مینائی کا یہ شعر سنا رہا ہوں
وہ
تجھے بھول گئے ، تجھ پہ بھی لازم ہے میر
خاک
ڈال، آگ لگا، نام نہ لے ، یاد نہ کر
مگر
وہ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں نہیں ہو سکتیں۔ میں اسے بھول نہیں سکتا کیونکہ میں نے
زندگی بھر اسے یاد رکھنے کا عہد کیا ہے۔ اور وہ بھی بھول نہیں سکتے کیونکہ وہ وعدہ
فروموشی کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کا خیال ہے کہ رابطہ نہ ہونے پر اس کا
کوئی قصور نہیں ہے۔ شاید حالات کچھ ایسے ہوں کہ وہ رابطہ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہ
ہو۔ اگر چہ وہ پر عزم ہے کیونکہ اس کو اس کے وعدے پر یقین ہے مگر میں اس کی بے بسی
اور سادگی پر حیران ہوں۔
عام طور پرہم لڑکوں
پر بے وفائی کا الزام لگایا جاتا ہے، لیکن معاملہ یہ ہے کہ کچھ سرور اور عمران بھی
اسی صف میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کے بارے میں بدگمانی کرنا تو کیا سوچ بھی
نہیں سکتے اگرچہ لوگ انہیں بدگمان یا فسادی کہہ کر ہی کیوں نہ بلاتے ہوں۔ وہ اپنے
عہدوپیمان کا بھرم رکھتے ہیں اگرچہ دوسروں کو یہ بھی یاد نہ ہو کہ کیے گئے وعدے
تھے کیا۔ انہیں بیماری کی حالت میں بھی ان کی فکر ہوتی ہے جنہیں تندرستی میں بھی
ان کا خیال نہیں۔ پڑھائی میں بھی ان کا دھیان ان کی طرف جاتا ہے جو چھٹیوں میں بھی
انہیں یاد نہیں کرتے۔
وفا
کا تعلق کسی جنس سے نہیں ہے، یہ بس صرف ایک احساس کی بات ہے۔ کہتے ہیں دنیا میں
کوئی انسان مصروف نہیں ہوتا یہ بس ترجیحات کا کھیل ہے۔ وہ سچ کہتے ہیں دراصل وقت
گزارنا وقت نکالنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔
- Follow Us on Twitter!
- "Join Us on Facebook!
- RSS
Contact