Thursday, 16 April 2015 2 comments

کیا ضرورت ہے ؟

کیا ضرورت ہے ؟


اس عنوان کے نیچے ابھی تک میں نے صرف نو لفظ لکھے ہیں۔ میں یہ لکھنے سے پہلے بھی یہی سوچ رہا تھا اور اب بھی میری سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں جب بھی اس سے کوئی کام کرنے کی اجازت مانگتا ہوں تو وہ اجازت تو دے دیتاہے مگر اس سے پہلے زیادہ تر وہ ایک بار ضرور کہتا ہے  ،آخر میرے ہوتے ہوئے اس کی کیا ضرورت ہے ؟  اور کبھی کبھار دل ہی دل میں کہتا ہوگا۔ ظاہر ہے میرے پاس اور کوئی جواب نہیں ہوتا ، میں کہتا ہوں تمہارے  ہوتے ہوئے ضرورت تو کوئی نہیں ہے مگر پھر بھی۔۔۔ وہ ہر دفعہ میرا فقرہ کاٹ کر کہتا ہے اچھا ناں کر لو۔ میں خوش ہوتا ہوں ، اور وہ کام کر بھی لیتا ہوں۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اگر وہ اجازت دیتاہے  تو آخر پہلے یہ کیوں کہتا ہے  کہ اس کی کیا ضرورت ہے؟
Sunday, 8 February 2015 1 comments

روائتیں بدل رہی ہیں۔ کل اور آج

روائتیں بدل رہی ہیں
میں اوپر کھڑا دھوپ سینک  رہا تھا جب  وہ ٹوپی پہنے  اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئےبہت ہی تیز قدموں کے ساتھ نیچے روڈ پر گزرا۔ میرے فلیٹ کے سامنے گزرتے ہی اس کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ وہ رکا، جیب سے موبائل نکالا اور اسی جگہ پر کھڑا ہو کر چار پانچ منٹ تک فون پر باتیں کیں ، فون جیب میں رکھا اور اسی تیزی کے ساتھ چل دیے۔  مجھے چند منٹ کیلیے حیرانی ہوئی کہ یہ چلتے ہوئے بھی بات کرسکتا تھا آخر رکنے کی کی ضرورت تھی۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ روایتیں بدل رہی ہیں ۔گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل نہیں بلکہ آج میں بہت سی چیزیں نئی ہیں۔
پہلے لوگ چلتے ہوئے بھی  کال  سننے کیلیے رکتے تھے اب لوگ بائیک اور گاڑی چلاتے ہوئے بھی کال سنتے ہیں۔
پہلے لوگ شاعری میں ردیف قافیہ اور بحر کا خیال رکھتے تھے اب تخلص شعر ہونے کیلیے فرض عین ہے۔
پہلے لوگ  اپنے بچوں کو کلمہ سکھاتے تھے اب گالیاں سکھا کر وڈیو اپلوڈ کرتے ہیں۔
پہلے بچے ایپل کھاتے تھے اب اس پر کھیلتے ہیں۔
پہلے لوگ فروری میں ویلنٹائین ڈے کا انتطار کرتے تھے اب انڈیا پاکستان میچ کا انتظار ہوتا۔
Monday, 3 November 2014 0 comments

سائبر عشق

شعر کبھی بھی آسانی سے سمجھ نہیں آتے اور جب غالب کے اشعار ہوں تو ان کو سمجھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ میں بہت دنوں تک سوچتا رہا کہ غالب کو کیسے پتہ ہوتا تھا کہ جوابی خط میں کیا باتیں ہونگی۔ لیکن آج میرے دوست الف کی باتوں سے اس  شعر کی سمجھ آ گئی ۔اس آنلائنی دور میں ہر چیز آن لائن ہے۔ اور تو اور  کسی نے یہاں تک بھی کہہ ڈالا
دل کے معاملات ہیں اب آن لائنی
ہیں عشق ڈاٹ کام کے یوزر بڑے بڑے
Tuesday, 8 July 2014 0 comments

کوئی چاہنے والا ایسا ہو۔۔۔

یہ تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے جب میرے کلاس فیلو اور دوست نے فیس بک پر ایک ترمیم شدہ شعر کچھ ایسے اپلوڈ کیا
؎
کوئی چاہنے والا ایسا ہے
جو بالکل میرے جیسا ہے  J
مگر آج  جب میرے دوست ع نے سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا تو میں نے دیکھا کہ اس شعر میں کوئی ترمیم نہیں ہے۔ اور کچھ یوں لکھا تھا۔
؎
کوئی چاہنے والا ایسا ہو !
جو بالکل میرے جیسا ہو!
Monday, 7 July 2014 1 comments

۔۔۔والی قوم

ٹویٹر پر بہت سی نئی باتیں ٹرینڈ ز کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ کچھ باتیں شاید ٹرینڈ کا درجہ تو نہیں پاتی مگر پھر بھی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتیں ہیں۔ قوم کے متعلق تو باتیں ہر وقت ہوتی ہی رہتی ہیں مگر وہ سنجیدہ حوالے سے ہوتی ہیں اس کے برعکس ٹویٹر پر کچھ دوستوں نے پاکستانی قوم کے متعلق کچھ دلچسپ اور حقیقت پر مبنی باتیں کیں۔ ان میں سے کچھ باتیں میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
o    پاکستانی فٹبال کی بجائے برازیلین جھنڈے منہ پہ بنانے والی قوم۔
o    900 روپے کا برگر اور سو روپے فطرانہ دینے والی قوم۔
o    ساری ساری رات جاگ کے گانے سننے اور پھر بھی سحری کے واسطے لیٹ ہو جانے والی ناہنجار قوم۔
o    روزہ رکھ کر انے واہ سونے والی قوم۔
o    انفرادیت کے چکر میں بے وقوف نظر آنے والی قوم۔
o    ہر بات میں غریبی کا رونا شروع کر دینے والی قوم۔
Tuesday, 27 May 2014 0 comments

وفا ایک احساس ۔۔۔۔۔۔

اپنے پیارے دوست عمران کا اترا چہرہ  دیکھ کر مجھے پچھلے سال کا ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے والد صاحب بہت زیادہ بیمار ہوئے  تھے۔ ہر گھنٹے بعد ان کا بلڈ پریشر اور ٹمپریچر چیک کرنا پڑتا تھا۔ پہلے دن تو نرس  اور ہاوس جاب پر موجود ڈاکٹر یہ کام کرتے رہے ، پھر میں نے انہیں بتایا کہ آپ زحمت نہ کریں یہ دونوں کام میں خود کر سکتا ہوں ۔ اس کے بعد ایک ہفتے تک میں اپنے والد صاحب کے ساتھ رہا اور اللہ کی مہربانی سے ان کی طبیعت بہتر ہوتی گئی۔
ایک دن دوپہر کا وقت تھا میں ہسپتال کی مسجد سے نماز پڑھ کر باہر نکلا تو  کیا دیکھتا ہوں کہ ادھیڑ عمر شخص کو ویل چئیرپر وارڈ کے ایمر اجنسی روم کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔ اس صاحب کو سانس کی تکلیف تھی اور دن کو فیکٹری میں کام کرتے ہوئے تکلیف بڑھ گئی اور بے ہوش ہو گئے۔  آکسیجن دینے کے بعد ہوش آیا  اور جلد ہی سٹیبل ہو گئے۔ اب وہ زیادہ سیریس حالت میں نہیں تھے لیکن پھربھی وقتا" فوقتا" ان کو دیکھنا ضروری تھا۔ کیونکہ ان کے ساتھ کوئی اور آدمی دیکھ بھال کرنے کیلیے نہیں تھا نرس اور ڈاکٹروں نے مجھےاس کو دیکھنے کا کہا۔
اس مریض کو بھی اسی کمرے میں منتقل کیا گیا جہاں پہلے سے میرے والد صاحب موجود تھے۔ ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد ان کی حالت بالکل ٹھیک ہوئی اور مجھ سے گپ شپ کرنے لگے۔ سامنے اخبار پڑا ہوا تھا ، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آج کی نئی خبر کیا ہے؟ میں نے پہلے انہیں  شہ سرخی اور پھر  پانچ ، چھے کالمی سرخیوں میں لکھی خبریں پڑھ کر سنائیں ۔ یہ الیکشن کا وقت تھا اور تمام خبریں الیکشن سے متعلق ہی تھیں۔ میں نے ان خبروں پر تجزیہ کرنا چاہا لیکن وہ مجھے ٹوک کر خود ایک مبصر کے طور پر باری باری  تمام خبروں پر اپنی رائے دینے لگے۔ ان کے مطابق بھٹو کے بعد پاکستان میں سیاست ختم ہو گئی۔ ان کے خیال میں بھٹو نے کچھ سنگین غلطیاں کی لیکن پھر ان کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔  وہ انتہائی ہنس مکھ آدمی تھے، اس بیماری کے باوجود وہ ہر فقرہ مسکراتے ہوئے بول رہاتھا۔
اب میری ان کی ساتھ اچھی خاصی " انڈرسٹینڈنگ" بن چکی تھی۔ مغرب کے وقت میں ان کے لیے کھانا لے کر آیا۔ یہ مجھے بعد میں احساس ہو ا کہ ان کیلیے کم روٹیاں لا کرمیں نے  ان کے ساتھ ظلم کیا۔ کھانا کھانے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا  کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں  آپ مجھے اپنے موبائل سے نمبر ملا کر دیجیے، میں نے ان کو نمبر ملا کر دیا ، انہوں نے پہلے اپنی بیوی کو تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا اور پھر اس سے کہا کہ اگر آپ میرے پاس آؤ تو یہ اچھی بات ہو گی۔ انہوں نے مزید   کہا، پھر آپ بھی تو کچھ بیمار ہو ، آئیں میرے ساتھ بھی رہیں اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ کریں۔ اس نے شاید یہ کہا کہ میں دیکھونگی اگر آ سکی تو کل آؤنگی ورنہ تم جب مکمل صحت یاب ہو جاؤ تو گھر آجانا۔ سرور نے ایک مربتہ پھر مسکراتے ہوئے کہا " ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، جیسے 'آپ 'مناسب سمجھو"  ۔ پھر اس نے اپنے چھوٹے بیٹے سے کچھ باتیں کیں۔  (نہیں مجھے بیلنس کی فکر نہیں تھی، یہ آپ سوچ رہے ہیں)
کل صبح جب میں نماز کیلیے اٹھا ، بلکہ انہوں نے ہی مجھے اٹھایا، وہ ایک دم ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔  نماز کے بعد تھوڑی دیر کیلیے  آرام کیا ، اور پھر میں ناشتہ لے کر آیا۔ ناشتہ کے بعد انہوں نے مجھے پھر نمبر ملانے کا کہا میں نے نمبر ملایا تو وہ نمبر کسی اور کال پر مصروف ملا۔ دس منٹ بعد اس نے پھر ملانے کا کہا مگر وہ پھر بھی مصروف، میں نے اسے بتایا  تو اس نے کہا وہ اپنے والدین سے بات کر رہی ہوگی۔  ایک گھنٹے تک نمبر مصروف رہا اور ہر بار سرور صاحب  مسکرا کر یہی کہتے تھے کہ ہفتے میں ایک دفعہ بات کرتی ہے ماں سے تو لمبی بات کرتی ہو گی۔  پھر اس کے بعد شام تک نمبر بند رہا۔ اور  مغرب کے بعد جب نمبر مل گیا  تو وہ بات کرنے کمرے سے باہر گئے۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ وہ واپس آئے اور ان کی آنکھیں نم تھیں، انہوں نے مجھے سیٹ واپس کیا ۔ اب مجھے نہیں معلوم اور کیا باتیں ہوئی ہونگی، میں نے تو ایک بات سنی کہ وہ کہہ رہی تھی " آپ کو کیا مسئلہ ، اب بار بار فون کرنے کی کیا ضرورت اور وہ بھی اوروں کو نمبر دے دے کر" ۔۔۔
پچھلے جمعے سے عمران کی بھی یہی حالت ہے۔ وہ شاید کسی سے رابطہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کر نہیں پا رہا اور دوسری طرف سے بھی کوئی ریسپونس نہیں ہے۔ میں بار بار اپنے دوست کو امیر مینائی کا یہ شعر سنا رہا ہوں
وہ تجھے بھول گئے ، تجھ پہ بھی لازم ہے میر
خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے ، یاد نہ کر
مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں نہیں ہو سکتیں۔ میں اسے بھول نہیں سکتا کیونکہ میں نے زندگی بھر اسے یاد رکھنے کا عہد کیا ہے۔ اور وہ بھی بھول نہیں سکتے کیونکہ وہ وعدہ فروموشی کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کا خیال ہے کہ رابطہ نہ ہونے پر اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ شاید حالات کچھ ایسے ہوں کہ وہ رابطہ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہ ہو۔ اگر چہ وہ پر عزم ہے کیونکہ اس کو اس کے وعدے پر یقین ہے مگر میں اس کی بے بسی اور سادگی پر حیران ہوں۔
عام طور پرہم  لڑکوں پر بے وفائی کا الزام لگایا جاتا ہے، لیکن معاملہ یہ ہے کہ کچھ سرور اور عمران بھی اسی صف میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کے بارے میں بدگمانی کرنا تو کیا سوچ بھی نہیں سکتے اگرچہ لوگ انہیں بدگمان یا فسادی کہہ کر ہی کیوں نہ بلاتے ہوں۔ وہ اپنے عہدوپیمان کا بھرم رکھتے ہیں اگرچہ دوسروں کو یہ بھی یاد نہ ہو کہ کیے گئے وعدے تھے کیا۔ انہیں بیماری کی حالت میں بھی ان کی فکر ہوتی ہے جنہیں تندرستی میں بھی ان کا خیال نہیں۔ پڑھائی میں بھی ان کا دھیان ان کی طرف جاتا ہے جو چھٹیوں میں بھی انہیں یاد نہیں کرتے۔
وفا کا تعلق کسی جنس سے نہیں ہے، یہ بس صرف ایک احساس کی بات ہے۔ کہتے ہیں دنیا میں کوئی انسان مصروف نہیں ہوتا یہ بس ترجیحات کا کھیل ہے۔ وہ سچ کہتے ہیں دراصل وقت گزارنا وقت نکالنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ 
Friday, 23 May 2014 17 comments

بچوں کو اگر کچھ ہو گیا تو ذمہ دار ڈاکٹر ہوں گے

بچوں کو اگر کچھ ہو گیا تو ذمہ دار ڈاکٹر ہوں گے
یہ لیاری یا مکران کے کسی سکول کی تصویر نہیں،  بلکہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں، آئی ٹی نمبر ون ، انٹرنیشنل رینکنگ میں  تین کیو ایس سٹار، ریسرچ میں تیسرے نمبر پر اور مجموعی طور پر پاکستان کی چوتھی بڑی یونیورسٹی کے کلاس  کی تصویر ہے۔ یہ کلاس کسی کلاس روم میں نہیں بلکہ کوری ڈورمیں  ہو رہی ہے۔ اس کلاس کے پڑھانے والے بھی (اس ادارے کی طرح نہیں) ایک عام آدمی نہیں ہیں۔ یہ مردمجاہد پاکستان کے طالبعلموں میں سب سے کم دورانیے میں فرانس سے  پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر عبدالوہاب ہیں۔
 
;