ٹوئٹر کے ادیب
عام طور پر ٹوئٹر کے بے
ادبیوں اور بدتمیزیوں پر بات کی جاتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس ٹوئٹر پر بہت بڑے مؤدب
اور ادیب بھی موجود ہیں۔ بہت خوبصورت جملے بھی لکھے جاتے ہیں اور شعروشاعری پر بھی
خاص توجہ دی جاتی ہے۔ بعض اوقات میں یہ سوچتا ہوں کہ صرف ایک سو چالیس حروف میں
بات مکمل کرنا بذاتِ خود بھی کسی فن سے کم نہیں۔ اور پھر اپنے آپ کو کو متعارف
کرنے کیلیے بھی صرف ایک سو ساٹھ حروف کی گنجائش ہو تو بہت محتاطی اور
نفاست سے کام کرنا پڑتا ہے۔
نفاست سے کام کرنا پڑتا ہے۔
عام طور پر لوگ اپنے بارے میں بتانے
کی بجائے ایک غیرمعروف ضربالمثل یا انگریزی ' قوٹ ' لکھ دیتے ہیں۔ بعض سخن فہم اشعار کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ '
بائیو ' میں نثر شازونادر ہی آپ کو ملے۔ ایک محترم دوست جو عام طور پر شعر ہی ٹویٹ کرتا تھا بائیو میں
زندگی کے متعلق کچھ یوں لکھا
"وہ بندہ جو خود
ڈرائیور ہے
اسے پیدل گھر جانا پڑتا ہے
"
معمول کے مطابق میں نے صبح کے دس
بجے ٹویٹر کھولا تو متذکرہ دوست نے یہ شعر ٹویٹ کیا ہوا تھا
" جاں بلب دیکھ کے
مجھ کو میرے عیسیٰ نے کہا
لادوا درد ہے، میں کیا
کروں، مر جانے دو "
میں نے بھی جواب دینے کیلیے ٹویٹ
کو کھولا ، تو کسی نے جواب میں ' واہ واہ ' لکھا تھا کسی نے ایک مخصوص بٹن دبا کر
پسندیدگی کا اظہار کیا تو کسی نے میری طرح ریٹویٹ کو ترجیح دی۔ لیکن ایک جواب ان
سب سے مختلف تھا ، اور کچھ یوں تھا
" یہ شعر تو اچھا ہے،
لیکن بائیو میں آپ کا لکھا ہوا شعر بے وزن ہے "
اور جواباً یہ بھی لکھ دیا
" کیوں خط لکھتی ہو ،
اب یہ چاہت کیسی
جدا ہو گئے ہو اب محبت
کیسی
ہمیں تمہاری چاہتوں پر بڑا
ناز تھا
تم بے وفا نکلی ، تم سے
شکایت کیسی "
فیورٹ اور ریٹویٹ کے علاوہ اور کوئی
بٹن دکھائی نہیں دیا تو میں نے اس شعر کو بھی ریٹویٹ کرنے پر اکتفا کیا۔
پرویزکریم
@PervaizKareem

0 comments:
Post a Comment