Sunday, 22 September 2013

اب اس کو کون سمجھائے ؟

کل سے عمران جتنا اداس تھا ، میں نے اسے کبھی اتنا اداس نہیں دیکھا ۔ وہ ایک عجیب کیفیت میں مبتلا تھا۔ ویسے تو وہ ایسا لاپروہ لڑکا ہے کہ آپ اسے میسج کرو تو جواب جا کر اگلے دن دیتے ہیں لیکن کل وہ ہر دومنٹ بعد موبائل اٹھا کر دیکھتا تھا۔ اور کل پہلی بار اس کا موبائل وائبریشن موڈ پر نہیں تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ انتظار میں ہے۔ میں نے اس سے بار بار پوچھا مگر اس نے کچھ نہیں بتائا۔ وہ کتاب کھول کر موبائل ہی کی طرف متوجہ تھا۔ شام تک اس پر یہی کیفیت طاری رہی۔ نہ جانے اس کو ایسی کیا پریشانی تھی۔ ویسے بھی ہم رات کو دیر تک گپ شپ کرتے تھے اور ویک اینڈ پر تو جلدی سونا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن آج نو بجے ہی عمران نے کہا مجھے نیند آ رہی ہے۔ ہم سے بھی اس کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی اس لیے کسی نے اسے منع نہیں کیا۔
آج صبح بھی معمول کے مطابق اس نے آٹھ بجے ناشتہ کیا اور ہاں ناشتے سے پہلے موبائل کو حسرت بھری نگاہوں سے  دیکھا ضرور اور پھر رکھ دیا۔ ویسے تو وہ ہر روز گھر والوں سے بات کیا کرتا ہے اور اتوار کے دن وہ دیر تک گھر والوں سے بات کرتے ہیں۔ آج بھی اس نے گھر والوں سے بات ضرور کی ، لیکن روایتی بات اور وہ بھی چند منٹوں کیلیے۔ شاید اس کی آواز میں کوئی تبدیلی تھی اس لیے گھر والوں نے باری باری، پہلے اس کے والد اور پھر اس کی ماں نے دو تیں دفعہ اس کا حال پوچھا، لیکن عمران نے ہر دفعہ مسکراتے ہوئے جواب دیا " میں بالکل ٹھیک ہوں، اور خوش ہوں " اگرچہ وہ ہر گز خوش دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس انتظار نے اسے پتھر بنا کر رکھ دیا تھا۔ اور وہ کسی سے نہ بات کرنا چاہتا تھا اور نہ کچھ  سننا۔ دوپر تک وہ چپ چاپ بیٹھے رہے۔  
وہ نمازوں کے بہت پابند ہیں ،آج بھی ہم نے اکٹھے ظہر کی نماز ادا کی۔ آج عمران خلاف معمول بہت طویل رکوع و سجود کر رہے تھے۔ خیر انہوں نے نماز مکمل کی اور ہم کھانا کھانے کیلیے چلے لیکن عمران نے ہمارے ساتھ چلنے سے انکار کیا اور ہاسٹل چلے گئے۔ ہم کھانا کھاکر واپس ہاسٹل آئے تو عمران اسائنمنٹ بنا رہے تھے۔میں بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ وہ مجھ سے اپنی کوئی بات نہیں چھپاتا تھا لیکن آج وہ مجھے کچھ بھی بتانا نہیں چاہ رہا تھا ۔ اچھانک اس کے موبائل کی گھنٹی بجی اور اس نے روشنی کی رفتار سے موبائل کی طرف دیکھا اور پھر بہت آرام سے فون سننے لگے۔ فون رکھ کر اس نے پھر کاغذ اور پینسل اٹھا لیے ۔ 
چند لمحے ہی گزرے تھے کہ موبائل کی گھنٹی ایک دفعہ پھر بجی اور عمران نے اسی تیزی سے موبائل کو دیکھا ، اس بار کسی کا فون نہیں تھا، لیکن پھر بھی اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور اس نے جلدی جلدی موبائل کو ان لاک کیا۔ لیکن یہ خوشی چند لمحوں کی تھی اور پھر میسج کھولتے ہی عمران کا رنگ اڑ گیا  اور آنکھوں سے بے ساختہ آنسوں بہنے لگے۔ اور اس نے کہا 
" یار آخر بے بس ہوں " 
جب میں نے اصل بات پوچھی تو وہ بولے 
" یار اب اس کو سمجھاؤں تو کیسے سمجھاؤں؟ جسے میں اپنا باس سمجھتا ہوں، جس کی کوئی بات میں نے کبھی رد نہیں کی، جس سے شکایت کر کے میں معذرت کرتا ہوں ، جس سے میں ناراض نہیں ہو سکتا، جس نے کبھی میری ایک بات نہیں مانی ، جس سے مجھے صرف ڈانٹ پڑتی ہے، جس کا صرف میں انتظار کر سکتا ہوں، آج اس نے وہ کھاتا بھی بند کیا، اب تو انتظار بھی نہیں کر سکتا ، اب تو اس کی ڈانٹ کیلیے بھی مجھے ترسنا پڑے گا، اب تو میں اس کو سوری بھی نہیں بول سکوں گا۔ 
پتہ نہیں لوگ اس طرح کیوں روٹھتے ہیں کہ ایک دفعہ معافی مانگنے کا بھی موقع نہیں دیتے۔ جس کی ڈانٹ کسی کے دن بھر کی تھکاوٹ کا اعلاج ہو لوگ اس میں بھی کنجوسی کرتے ہیں۔ یار اب تو اس سے رابطہ بھی نہیں ہو سکتا اس نے تو سارے میڈیم ہی ختم کردیے۔ اب اس کو یہ ساری باتیں کون سمجھائے گا ؟ بتاؤ ناں "
لیکن اب میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔۔

2 comments:

Post a Comment

 
;