آج نو محرم الحرام ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے تو میں اسلامی تقویم کے اعتبار سے اس نئے سال کی آمد پر آپ کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ اور دعا کرتا ہوں کہ یہ سال ہمارے لیے امن و امان اور سلامتی کا سال ثابت ہو۔ اس موقع پر ایک اور بات یہ کہ محرم الحرام کے مہینے کو ہم نے ایک مخصوص مکتب فکر کے زیر اثر رنج و غم اور حزن و الم کا مہینہ بنا لیا ہے حالانکہ کسی بھی اعتبار سے یہ مہینہ ہمارے لیے رنج و غم کا مہینہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سال کا کوئی مہینہ دینی لحاظ سے رنج و غم کا مہینہ نہیں۔ یوم عاشورہ کی جو اہمیت ہے ، نبی ٖﷺ اس دن روزہ رکھتے تھے ، تو اس کی کوئی بنیاد اور تعلق حادثہ کربلا سے نہیں ہے ، یہ حادثہ تو بعد میں پیش آیا۔ ویسے بھی یہ بات واضح ہے کہ ہمارے دین میں " شہادت " کا معاملہ کوئی رنج و غم والی بات ہے ہی نہیں۔
بلکہ یہ تو ایک مرد مومن کیلیے فلاح و کامرانی کا بلند ترین مقام ہے۔ اس کی دلیلیں قرآن سے دی جا سکتی ہیں۔
بلکہ یہ تو ایک مرد مومن کیلیے فلاح و کامرانی کا بلند ترین مقام ہے۔ اس کی دلیلیں قرآن سے دی جا سکتی ہیں۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ زیادہ تر غلبہ باطل کا رہا حق کے غلبے کے ادوار بڑے مختصر تھے۔
تو اگر باقی باتیں چھوڑ کر ہم اس سانحہ کی طرف آئیں تو ایک بہت ضروری ہے کہ کسی غیر صحابی سے - چاہے وہ حضرت عمر بن عبد العزیز ہی کیوں نہ ہوں - وہ خاک افضل ہے جو نبی اکرم کی ہم رکابی میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے صحابی کے گھوڑے کے نتھنے میں گئی ہو۔
اگر تاریخ دیکھ لیں تو حضرت امیر معاویہ کےدور حکومت کے بیس سال امن رہا۔ واضح ہے کہ حضرت حسینؓ بھی وہیں ہیں ، حضرت حسنؓ بھی دس سال تک زندہ رہے۔ اس کے بعد آتا ہے امیر یزید کی بحیثیت ولی نامزدگی اور پھر ان کے دور حکومت میں سانحہ کربلا کا واقعہ جو درد ناک بھی ہے اور افسوس ناک بھی، اور جس کے بلا شک و شبہ تاریخ پر بہت نا خوشگوار اثرات چھوڑے۔ حضرت امیر معاویہ کو جانشین بنایا ، کیوں بنایا یہ ایک سیاسی بحث ہے اس کے مختلف پہلو ہو سکتے ہیں۔ لیکن حضرت امیر معاویہ کے اوپر گمان نہیں کر سکتے۔ اور زیادہ تر لوگوں نے تو یزیدکے ہاتھ پر بیعت بھی کرلی اور چند لوگوں نے انکار کیا۔ ان میں پانچ بہت مشہور ہیں ، حضرت عبداللہ بن زبیر ، عبداللہ بن عمرو ، عبداللہ بن عباس ، حسین ابن علی اور عبد الرحمٰن بن ابو بکر۔ انہوں نے یزید کی بیعت ولی عہدی سے انکار کیا۔
اب حضرت حسینؓ کا جو موقف تھا، اہل سنت اس معاملے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ پوری نیک نیتی سے حضرت حسینؓ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کے شورائی اور جمہوری مزاج کا بدلا جا رہا ہے۔ اور پحر شہر کوفہ کے لوگ برابر خطوط بھیج رہے تھے۔ اب جب مدینہ کے گورنر نے حضرت حسینؓ سے بیعت لینے کا کہا تو آپؓ نے مکے کی طرف سفر کیا۔ اور مکے کے گورنر کے ہاتھ پر بیعت کیے بغیر ایک سو بتیس(132) دن مکے میں گزارے۔ لیکن جب کوفے سے زیادہ لوگ آنے لگے تو حضرت حسینؓ نے بھی سوچنا شروع کیا۔ اور جو کہا جاتا ہے کہ حضرت حسین نے آٹھ(8) ذوالحجہ کو سفر شروع کی ، یہ بات بھی دل کو نہیں لگتی کیونکہ نو ذوالحجہ کو حج کر کے روانہ ہوئے ہونگے۔
بہرحال آپ نے اکہتر (71) لوگوں سمیت سفر شروع کی۔ جن میں سترہ(17) آپ کی خاندان سے اور چون(54) وہ جو خظ لے کر آئے تھے۔ اب مکہ اور کربلا کا درمیانی فاصلہ چودہ سو کلو میٹر (1400) ہے اور حضرت حسینؓ اونٹ پر سفر کر رہے ہیں۔ مختلف مقامات پر خطاب بھی کر رہے ہیں۔ اور اٹھائیس دن میں کربلا تک پہنچ بھی رہے ہیں۔ اب سوال یہ کہ اونٹ سے زیادہ زیادہ آپ
ایک دن میں چالیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتے ہین۔ اگر اسی رفتار سے بھی چلتے تو کم از کم پینتیس ( 35) دن لگتے۔
اب ایک اور بات جب ہم سوچتے ہیں کہ حضرت حسینؓ کو کوفہ جانے سے روکا گیا تو جس مقام پر کربلا ہوا وہ کوفہ سے پہلے ہونا چاہیے جبکہ اس کے برعکس کربلا کوفہ سے آگے ہے۔ پھر دریائے فرات کو بند کر دیا گیا۔ لیکن کربلا اور دریائے فرات کا درمیانی
فاصلہ اکیس (21) کلو میٹر ہے جبکہ ساتھ ایک جھیل ہے جس کا فاصلہ تیرہ (13) کلو میٹر ہے۔
یہ وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے کربلا کی روایتی کہانی پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے آپ مختلف روایتوں سے اصل روایت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
فاصلہ اکیس (21) کلو میٹر ہے جبکہ ساتھ ایک جھیل ہے جس کا فاصلہ تیرہ (13) کلو میٹر ہے۔
یہ وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے کربلا کی روایتی کہانی پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے آپ مختلف روایتوں سے اصل روایت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
پہلی بات حضرت حسین محرم نہیں صفر میں پہنچے ہونگے، دوسری بات کہ حضرت حسین جب کوفہ پہنچے تو ان کی بات گورنر کے نمائندہ اور سپہ سالار عمرو بن سعد سے مذاکرات ہوئے اور انہوں نے انہیں یزید کے پاس جانے کی اجازت دی اور گورنر نے عمرو بن سعد کی قیادت میں ایک دستے کو حضرت حسین کی حفاظت کیلیے معمور کیا۔ اب کربلا کے مقام پر جب پہنچے تو جو لوگ خط لے کر آئے تھے حضرت حسین کے پاس انہیں معلوم ہوا کہ حقیقت کھل جائے گی انہوں نے حضرت حسین کے خاندان پر حملہ کیا جب وہ سو رہے تھے اور انہیں شہید کر دیا ۔ اور جب خط نہیں ملے تو انہوں نے خیموں کی کو آگ لگا دی۔ یہ دیکھ کر عمرو بن سعد آئے اور انہوں نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں مار دیا۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ عمرو بن سعد حضور ﷺ کے ماموں حضرت سعد بن وقاص کے بیتے ہیں۔
اب دو باتیں ایک یہ کہ اگر یہ واقعہ صفر میں ہوا تو محرم میں بنانے کا کیا فائدہ ، اور دوسری بات اگر پانی نہیں بند کیا گیا تو اس کہانی کی کیا ضرورت۔ پہلی بات یہ ہے کہ ایک روایت ہے کہ تاریخ کے اہم واقعے دس محرم کو ہوتے ہیں۔ صرف اس بات کیلیے شاید یہ تاریخ بنائی گئی۔ اور دوسری بات پانی بند کرنے کی تو شاید وہ حضرت عثمانؓ کو جو پیاسا رکھا گیا اس بات کو بھلانے کیلیے۔ بہر حال یہ تو صرف ایک تجزیہ ہے۔ اب جیسے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لال مسجد پر حملہ ہوا لیکن اگر کوئی تین سو سال بعد یہ لکھے کہ حملہ نواز شریف نے کیا تو کم از کم ہمیں یہ تو دیکھنا چاہیے اس وقت حالات کیا تھے۔



3 comments:
محترم سنی علماےکرام نے کبھی بھی واقعہ کربلا پہ شکوک کا اظہار نہیں کیا۔۔شیعہ مکتب فکر کی مبالغہ آرائی اپنی جگہ اگر حاوالہ جات کے ساتھ بات ھو تو بہتر ھوگا
میں نے تو حوالہ والی بات ہی نہیں کی۔ میںگوگل میپ دیکھ رہا تھا تو خیال آیا۔ اور پھر تین چار کتابیں پڑھیں۔ ان سے نتیجہ نکالا۔
محترم - دریا اپنا راستہ تبدیل کرتے رہتے ہیں-جیسے راوی پہلے شاہی قلعہ کے پاس سے گزرتا تھا-یہ صرف چار، پانچ سو سال پہلے کی بات ہے-جبکہ واقعہ کربلہ کو تو ۱۴۰۰ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے-
Post a Comment