آشفتہ آج جب میرے پاس آئے تو بہت بدلے بدلے سے لگ رہے تھے۔ میں نے
ان سے وجہ دریافت کی تو بولے یار بیمار ہوں۔ اور بہت سی بیماریوں نے گھیر لیا۔ میں
نے جب پوچھا کہ آپ کو کیا بیماری ہے ، تو کہنے لگے یار ایک بیماری وہ ہوتی ہے جس
کا علاج ڈاکٹر کرتے ہیں اور ایک وہ جس کا علاج ، معالج خود ہوتا ہے۔ مجھے کوئی
ایسی بیماری نہیں کہ گولی کی ایک ٹکی لے
کر ٹھیک ہو جاؤں۔ اس نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ، یار میں پریشان ہوں ، اداس
ہوں اور مایوس ہوں۔ اور مجھے پریشانی ، اداسی اور مایوسی کی بیماری ہے۔ میں نے کہا آشفتہ یہ۔۔۔ وہ میری بات کاٹتے ہوئےبولے ہاں مجھے معلوم ہے
آپ کیلیے یہ ساری باتیں مذاق ہیں۔ اور میں ایک ڈرامہ باز۔ ہاں دوست آپ صحیح سوچ
رہے ہو ، ایسے ہی ہے۔ میں نے آشفتہ کو غصے میں دیکھ کر پوچھا تو آخر آپ کو یہ
بیماریاں کیوں لگ گئیں اور یہ پریشانی، اداسی اور مایوسی وغیرہ کیا ہوتے ہیں؟
وہ بولے یار آپ پریشان نہیں ہوئے اس لیے آپ کو نہیں معلوم پریشانی
کسے کہتے ہیں، میں اس سے پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ خود بولے ، پریشانی یہ ہوتی ہے
کہ کسی دوست سے رابطہ ایسے کٹ جائے کہ آپ کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کہاں ، اور
کس حال میں ہے۔ آپ بار بار اس کے بارے میں سوچ رہے ہوں اور دل میں مختلف مفروضے قائم
کر رہے ہوں۔ آپ کو یقین ہو کہ وہ لاپرواہ ہےاور اس کیلیے دو تین دن کیلیے رابطہ نہ
ہونا ایک معمولی سی بات ہے۔ پھر بھی آپ اس کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوں۔ پتہ ہے یہی پریشانی ہی در اصل بے بسی ہوتی ہے۔ اور
معلوم ہے بیماری ہی وہ حالت ہے کہ انسان بے بس ہوتا ہے۔ مجھے پتہ ہے آپ کہو گے
انسان بیماری کے علاوہ بھی بے بس ہوتا ہے، تو دوست وہ ساری بیماریاں ہی ہوتیں ہیں۔
میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ تو اداسی ؟
ہاں اداسی ، اداسی یہی ہوتی ہے، کہ آپ کا اس دوست سے رابطہ ہو ،
اور وہ خیریت سے بھی ہو۔ آپ سے وہ بات بھی کرےاور جب آپ اسے اپنی
پریشانی کے متعلق بتائیں تو وہ کہے " روز رابطہ ہونا ، ضروری تو نہیں ہے
"۔ آپ اسے کہیں کہ میں پریشان تھا کہ آپ خیریت سے تو ہوں اور وہ آگے سے بولے، ہر قت برا
ہی سوچنا۔ تو دوست ان باتوں کو سننے کے بعد انسان جس کیفیت میں چلا جاتا ہے اسے
اداسی کہتے ہیں۔ اور اداسی کا علاج کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے۔ اور معالج ہی وجہ
مرض اور علاج ہوتا ہے۔ اور دراصل ایسے امراض ہی لا علاج ہوتے ہیں۔
تو اب مایوسی کے بارے میں بھی آپ نہیں جانتے ناں۔۔۔ ہاں مایوسی یہ ہوتی
ہے، کہ وہ دوست جس کیلیے آپ پریشان اور اداس رہے ہوں ، وہ ایک دفعہ پھر آپ کو اداس
اور پریشان کر دے۔ یار پھر آپ کیا کر سکتے ہو؟ بس یہی کر سکتے ہوں کہ اس کی کہی
ہوئی باتوں کو دہراؤں ، اور اداس ہو جاؤ۔
کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی
میں نے پوچھا کہ آخر ان بیماریوں کی کوئی وجہ
بھی تو ہو گی۔ تو وہ فورا" سے پہلے بولے کہ یہ سب بیماریاں اس وقت لگتی ہیں
جب آپ کا دل آپ کے ہاتھ سے نکل جائے۔ اور جب آپ پر دل کی حکمرانی چلتی ہو۔ جب عقل
ایک برائے نام یونٹ کی طرح کام کرے۔ میں نے کہا جب آپ کو یہ سب معلوم ہےتو اپنے
ساتھ ظلم کیوں کرتے ہو۔ آخر کیا ضرورت ہے کسی کیلیے اپنے آپ کو پریشانی میں ڈالنے
کی۔ کسی بےحس کیلیے اداس رہنے کا کیا فائدہ؟ کسی مایوس کرنے والے سے امیدیں کیوں
رکھتے ہو۔ اپنے آپ کو اس حالت میں کیوں رکھتے ہو۔ کسی کی غلطی پر اپنے آپ کو کیوں
سزا دیتے ہو ؟ ہری بھری کھیت کو اپنے ہاتھوں سے کیوں آگ لگاتے ہو۔ اس کا انتظار
کیوں کرتے ہو، جو آپ کا منتظر نہ ہو۔ اس کو کیوں اہمیت دیتے ہو جس کیلیے آپ کی
پریشانی،اداسی اور
مایوسی بس معمولی چیزیں ہوں۔ اس کیلیے یہ سب کچھ کیوں کرتے ہو
جو آپ کا حال تک نہ پوچھے۔اس کیلیے ۔۔
بس!!!!! یار میں بھی کبھی اس عنوان پر ایسی
ہی تقریر کیا کرتا تھا۔ ہاں اسی طرح فل اسٹاپ کے بغیر۔
دوست ! ناصح کی زبان اس وقت تک چلتی ہے جب تک
وہ محبت میں مبتلا نہیں ہوتا۔۔۔۔

0 comments:
Post a Comment