Friday, 23 May 2014

بچوں کو اگر کچھ ہو گیا تو ذمہ دار ڈاکٹر ہوں گے

بچوں کو اگر کچھ ہو گیا تو ذمہ دار ڈاکٹر ہوں گے
یہ لیاری یا مکران کے کسی سکول کی تصویر نہیں،  بلکہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں، آئی ٹی نمبر ون ، انٹرنیشنل رینکنگ میں  تین کیو ایس سٹار، ریسرچ میں تیسرے نمبر پر اور مجموعی طور پر پاکستان کی چوتھی بڑی یونیورسٹی کے کلاس  کی تصویر ہے۔ یہ کلاس کسی کلاس روم میں نہیں بلکہ کوری ڈورمیں  ہو رہی ہے۔ اس کلاس کے پڑھانے والے بھی (اس ادارے کی طرح نہیں) ایک عام آدمی نہیں ہیں۔ یہ مردمجاہد پاکستان کے طالبعلموں میں سب سے کم دورانیے میں فرانس سے  پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر عبدالوہاب ہیں۔

یقینا" آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ کلاس یہاں کیوں ہو رہی ہے۔ جبکہ کامسیٹس کے پراپیکٹس پر تو لکھا ہوا ہے کہ ان کے  کلاس روم گرمیوں  میں  ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم ہوتے ہیں، پر وہ کہتے نہیں ہیں یہ کتابوں کی باتیں ہیں۔ شاید دوسرے کیمپسس میں اس طرح ہوتا ہو لیکن واہ کیمپس میں صرف ایک بلاک کے اے سی چلتے ہیں جس کو ایڈمن بلاک کہا جاتا ہے۔ اور پھر سونے پر سہاگہ ، کیونکہ کلاس رومز میں اے سی لگے ہوئے ہیں ( چلتے نہیں) اس لیے پنکھا لگانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔  مئی کی اس گرمی میں جب ایڈمنسٹریشن سے یہ بات طلبا  اور اساتذہ نے کی ، تو بے وثوق ذرائع نے بتایا کہ اس پر فیصلہ لینے کیلیے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹنگ میں یہ بات طے کی گئی کہ گرمی ہو یا نہ ہو ، اے سی یکم جون سے چلیں گے ، اور چلیں گے بھی گیارہ بجے سے دوپہر تین بجے تک کیونکہ اس کے علاوہ باقی اوقات میں گرمی نہیں ہوتی ۔
سٹوڈنٹ اس پر خاموش رہے جبکہ ٹیچرز نے اپنے کیبنوں میں بغیر کسی اجازت کے آن آف پینل سے ( ریموٹ کنٹرول کے بغیر)اے سی چلانے شروع کیے جس پر سننے میں  یہ آیا ہے، کہ کیوک ریسپانس فورس نے ٹیچرز کے کیبنوں سے وہ پینل اتار دیے ، اور اب صرف وہ صاحب اپنے کیبن کا اے سی چلانے میں کامیاب ہے جس کے گھر میں بھی اسی کمپنی کا اے سی ہو۔ (ریموٹ کنٹرول گھر سے لاتے ہیں)۔ اب پچھلے دنوں جب شدید گرمی میں ڈاکٹر عبدالوہاب صاحب نے اے سی چلانے پر اصرار کیا تو انہوں نے بتایا کہ جون سے پہلے اے سی نہیں چل سکتےــــ ایک دوست کے بقول ڈاکٹر  صاحب بھی مولانا محمد علی جوہر کی طرح ہیں ـــــ اس پر ڈاکٹر صاحب نے کلاس باہر بٹھا کر لال رومال کی تحریک شروع کی۔   تحریک کامیاب ہوئی اور اگلی کلاس میں اے سی آن کیے گئے۔  لیکن ساتھ میں اے سی نہ چلانے اور ڈاکٹرکی  کم فہمی کے بارے میں بھی کچھ باتیں اے سی روم میں بیٹھے کچھ لوگوں نے یوں کی۔ انہوں نے  کہا کہ موسم ابھی تبدیل ہورہی ہے اگر اس وقت اے سی چلائے جائیں تو  بہت سے طالبعلم بیمار پڑ جائیں گے اوراگر  کوئی بھی بچہ بیمار ہوا تو ذمہ دار ڈاکٹر ہونگے۔
یہ تو ایک بات تھی اب اس با کمال ادرے کے لاجواب لوگوں کی کچھ اور باتیں بھی آپ کے ساتھ شئیر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس یونیورسٹی کی آپ چاہیں جتنی بھی مخالفت کریں لیکن آپ ان کی ایک اہم سرگرمی سے انکار نہیں کر سکتے۔ اس سرگرمی کو یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ ویک کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے یہ سال میں ایک دفعہ ہوتا تھا لیکن جب سے عامر لیاقت نے انعام گھر شروع کیا  کامسیٹس نے منافع کو دیکھتے ہوئے سال میں دو دفعہ  یہ ویک منانے کا فیصلہ کیا۔ اس ویک میں  کیمپس میں سٹال بڑے مہنگے داموں پیچے جاتے ہیں۔  سٹوڈنٹ کلب کے پانچ سو روپے ہر طالبعلم سے لیے جاتے ہیں۔ مجھے اس کیمپس میں تین سال ہوئے لیکن میں  ابھی اس کلب کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہوں ۔
ہاں لائبریری بھی کمال ہے۔ ہزار روپے لائبریری کی مد میں ہر طالبعلم سے ہر سمسٹر لیے جاتے ہیں اور دو سو روپے کی دو کتابیں آپ ایک مہینے سے زیادہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ اس کے علاوہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے طلبا سے آٹھ ہزار روپے لیب کی مد میں  چارج کیے جاتے ہیں۔  اگر چہ کھیلنے کیلیے نہ کوئی جگہ نہ کوئی سہولت پھر بھی ہر طالبعلم سے پانچ سو  روپے سپوڑٹس فی کے نام سے بٹوری جاتی ہیں۔ 
اب ذرا آب وہوا کے اوپر کچھ باتیں ہوں ، کیمپس کی آب و ہوا بہت خوشگوار ہے یہ فقرہ آپ کیمپس کی ویب سائٹ پر تو دیکھ سکتےہیں  شاید عملا" نہیں۔ لوگ درخت لگاتے ہیں ، یہاں کاٹے جاتے ہیں۔  ہاں درختوں کو رنگ کرنے کا کام انتہائی پابندی سے کیا جاتا ہے۔ پینے کے پانی کا بھی مناسب انتظام ہے  اڑھائی ہزار کی تعداد کیلیے  چار واٹر کولر کا بھی انتظام ہے۔  اور اس میں کسی بھی کوتاہی سے بر وقت نمٹنے کیلیے ربڑ کے دو  کولر زکا بھی انتظام ہے۔  سنا تھا یونیورسٹیوں میں ٹرپ نام کی کوئی چیز ہوتی تھی۔ مگر یہاں یہ سہولت نہیں ہے کیونکہ کیمپس کی بسیں شادیوں میں کرایے پر دی جاتی ہیں۔ 
ویسے یار جتنے پیسے لیے جاتے ہیں اس سے کم خرچے پر تو برازیل والوں نے فیفا کیلیے سٹیڈیم بنائے ہیں۔
اے سی تو اے سی  چند ایک کلاس روم  میں پروجیکٹر اس طرح کے ہیں  جو پندرہ منٹ تک گرم ہوئے بغیر چل سکتے ہیں۔اب امتحانات کا موسم ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس دفعہ ایڈمٹ کارڈ کے پشت پر لکھا جائے گا  کہ گرمی سے بچنے کیلیے ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل اوردستی  پنکھا اپنے ساتھ ضرور لائیں ۔   اب بات کرتے ہیں کیفے کی -----  چھوڑیں۔  اچھا سنیں
اب چلتے چلتے یہ بھی بتا دوں کہ یہ پاکستان کی یا شاید دنیا بھر کی واحد یونیورسٹی ہے جس میں سال کے بارہ مہینے داخلے جاری رہتے ہیں ۔ اس وقت بھی داخلے جاری ہیں۔ وہ  دوست جو اس ادارے کی کارکردگی سے مطمعن  ہیں وہ ضرور داخلہ لیں۔ پر آخر میں میرے دوست کی اس دعا پر آمین ضرور کہیے گا کہ اللہ کامسیٹس کے محمد علی جوہر کو ٹیپوسلطان بننے سے محفوظ رکھے۔  

17 comments:

Unknown said...

kamal yr buht aala ...!
students stand nhi lain gy to aesa hi hogaaaa...
yr aik bar uthooo to sahi sb mil kr !!!!
phr dekhty hain kis kis ko expel kia jata hy yahan se !!!!
huhhh yahan pe koi uthny walaaa kahan ...!!!!
but i appreciate your work n m with u .!

Unknown said...

good effort

Unknown said...
This comment has been removed by the author.
Unknown said...

Good Job..!

umar said...

Nice joke. Dr Abdul Wahab sab kai kisi friend ki hi post lagti hai ya ho sakta hai sir nay khud hi likhi ho ;)

Unknown said...

(Y)

Unknown said...

Kamal kr dia...ye sb parh k dil ko to khushe hui, mgr jb tk Unity nai ho ge, koi b Management ka kch nai begar skta... apny Haaaq k leye larna jaaa'iz h, isi leye sb ko chahye k wo mil k awaz uthaaaa'eeen or apni bateen manwaaa'eeeeeen......

Basim Azam said...

Love u Pervaiz Bhai!
Zabardast likha he!
(Bhulakar)

Unknown said...

right yr alla (Y)
Pervaiz (Y)

Hussam-ul-Hussain said...

Kamaal kr diya yr :) (Y)

ItsMyThought said...

great yar but ap cuonline k baray main btana to bhol he gay.

Unknown said...

well said these are the facts about the university but still there are some good things that should not be ignored........

kamrian said...

aur akhir me in sb batoun k baad aap ki fees hamesha ki tarha barha di jae gi yakeenan .... :D

Unknown said...

(Y) well said

Pervaiz said...

Thanks for your comments friends. I just want to reply Mr. Umar's comment. This blog is not written by Dr. Adul Wahab. And I think Dr don't need anything like that. Yes it is joke I am agree with you.

Unknown said...

sir abdul wahab da great teacher

Unknown said...

100% true. hats off to you writer. I'm agree with you.

Post a Comment

 
;