Tuesday, 8 July 2014

کوئی چاہنے والا ایسا ہو۔۔۔

یہ تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے جب میرے کلاس فیلو اور دوست نے فیس بک پر ایک ترمیم شدہ شعر کچھ ایسے اپلوڈ کیا
؎
کوئی چاہنے والا ایسا ہے
جو بالکل میرے جیسا ہے  J
مگر آج  جب میرے دوست ع نے سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا تو میں نے دیکھا کہ اس شعر میں کوئی ترمیم نہیں ہے۔ اور کچھ یوں لکھا تھا۔
؎
کوئی چاہنے والا ایسا ہو !
جو بالکل میرے جیسا ہو!
چونکہ میری اس کے ساتھ فری گپ شپ ہے پھر میں نے اس سے اس کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اس سے کہا یار یہ چند مہینے پہلے تو آپ بے حد خوش تھے آخر اچانک یہ کیا ہو گیا ، اس نے کہا ہم پرائمری سکول سے پڑھتے ہیں کہ انسان کے پانچ حس ہیں۔ یار یہ ہمیں بچپن سے خود غرض بناتے ہیں ، آپ مجھے بتائے وہ پانچ حس تو اپنے آپ کو فائدہ دینے کیلیے ہوتے ہیں ، مگر دوسروں کے کام آنے کیلیے احساسات کی ضرورت ہے۔ اور جس وقت وہ شعر میں ترمیم کے ساتھ لکھتا تھا اس وقت مجھے ایک امید تھی کہ لوگوں کو احساس ہے۔ مگر احساس تب تک نہیں ہوتا جب اپنے اوپر کوئی مشکل یا ضرورت  نہ پڑے۔
          میں نے اس سے کہا احساس اور ضرورت وہ کیسے؟ کہنے لگے میرے ایک دوست کا باپ کالج میں پرنسپل ہے۔ اس کی تنخواہ تقریباً کم سے کم اسی ہزار ہے۔ میں نے اسے ہر وقت غربت کا رونا روتے ہوئے دیکھا اگرچہ مجھے معلوم ہے اس کے پہلے مہینے کی تنخواہ ابھی استعمال نہیں ہوتی کہ وہ اگلے مہینے کی  لے لیتا ہے۔ اس کی ایک بیٹی بیمار ہو گئی اور جب تشخیص میں معلوم ہوا کہ اس کو کینسر ہے تو اس کے بعد ایک دن ٹی وی پر اشتہار آیا کہ شوکت خانم کیلیے ایک میسج بھیج کر دس روپے ڈونیٹ کرو تو اس نے اسی وقت اپنے بیٹے سے کیا میرے موبائل سے ایک میسج بھیجنا اور دس روپے  دینا۔ اس نے مزید کہا آپ کہو گے اسی ہزار اور دس روپے میں کیا ربط مگر کنجوسی اس کی مجبوری ہے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھو اسے احساس تو ہوا ناں؟
          میں نے کہا اچھا آپ کی بات مان لی تو احساس نہ ہونا صرف اس وجہ سے کہ اس کو ضرورت نہیں اس کی کوئی مثال آپ دے سکتے ہیں ، اس نے کہا ہاں یہ یوں کہ میں اپنے دیرینہ دوست  ش سے پوچھوں آپ عید پر کپڑے کب لے رہے ہو اور وہ کہے میں اس عید پر کپڑے نہیں لے رہا۔ مجھے اس کی مالی حالت کا بھی اندازہ ہے اور اس کے جواب میں میں  کہوں پتہ ہے میں چار یمی قسم کے سوٹ لے رہا ہوں جنید جمشید کے آپ بھی کم از کم تین سوٹ تو لے لیں ۔ تین تک تو عید چلتی ہے ناں ؟ بتاؤ پرویز آپ اس کو کیا نام دو گے؟
          میں نے کہا اچھا یہ تو ایک فرضی بات ہوئی ناں مگر آپ کی حالت تو ماشااللہ ہر لحاظ سے ٹھیک ہے۔ آپ یہ باتیں کیوں کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا کہ  کبھی آپ کے ساتھ یوں ہوا آپ کا دل کسی کیلیے بہت اداس ہو اور آپ کسی دوست سے کہیں یار آئیں باتیں کریں وہ کہے شب بخیر تو آپ کیا پھر بھی سوچیں گے کہ یہ چاہنے والا ایسا ہے--- جو بالکل میرے جیسا ہے۔۔۔  اور پھر آپ اس سے ناراض بھی نہ ہو سکیں ۔  اور پھر آپ احتجاجاً کچھ تلخ باتیں کہیں اور وہاں سے کوئی آپ سے کہے بات کرنا ہے تو کرو ورنہ مجھے ان باتوں سے مت جلاؤ۔ آپ کے خیال میں دوستی کے قابل نہیں ہوں ناں تو نہ کریں۔  اور ان سب باتوں  کے بعد یہ کہا جائے آپ دل سے معاف نہیں کر سکتے ؟
           میں نے اس سے پوچھا اگر حالات یہ ہیں تو چند مہینے پہلے اس ترمیم شدہ شعر کا کیا مطلب تھا؟ اس نے کہا یار آپ ہی کہتے ہیں دوست وہ ہوتا ہے ناں جس سے بس آپ ایک دفعہ کہو مجھے آپ کی ضرورت ہے وہ "کیوں "نہ کہے اور آپ کے پاس پہنچ جائے۔ اس وقت یہی حالت تھی غلطی میری ہوتی تھی مگر معافی وہ مانگتے تھے۔ اگر میری آنکھوں میں وہ ذرا سی نمی دیکھتے تو اس کی آنکھیں بھی خشک نہیں رہتی تھیں۔  دنیا میں محبت کیلیے ایسا کوئی نام نہیں ہوتا تھا جس سے وہ مجھے نہیں بلاتا تھا۔ اسے تو اپنی کسی بات پر روتے ہوئے بھی میں یاد آتا تھا۔ مگر اس سب کو کس نے ختم کیا ؟ آپ کو معلوم ہے انا نے۔
          شاید اس بلاگ پر بھی کوئی یہی اعتراض کرے کہ آپ تو بس رونے دھونے کی باتیں کرتے ہیں۔ اور وہ بھی اپنے اس دوست کی۔ مگر کیا کروں اس کی باتیں دل کو لگتی ہیں یار۔ ساتھ جو ہوتا ہے۔ شاید کوئی پڑھے ہی ناں ، اور اگر کوئی پڑھے تو اس کو اچھا نہ لگے۔  بہر حال انا  سے احساسات کا قتل درندگی ہے۔ 

0 comments:

Post a Comment

 
;