Monday, 3 November 2014

سائبر عشق

شعر کبھی بھی آسانی سے سمجھ نہیں آتے اور جب غالب کے اشعار ہوں تو ان کو سمجھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ میں بہت دنوں تک سوچتا رہا کہ غالب کو کیسے پتہ ہوتا تھا کہ جوابی خط میں کیا باتیں ہونگی۔ لیکن آج میرے دوست الف کی باتوں سے اس  شعر کی سمجھ آ گئی ۔اس آنلائنی دور میں ہر چیز آن لائن ہے۔ اور تو اور  کسی نے یہاں تک بھی کہہ ڈالا
دل کے معاملات ہیں اب آن لائنی
ہیں عشق ڈاٹ کام کے یوزر بڑے بڑے
تو میرے دوست بھی سائبر عشق میں مبتلا ہو گئے۔  کسی دن اس کی ایک صنف نازک  کے ساتھ فیس بک پر بک بک ہو گئی۔ مگر سیانے سچ کہتے ہیں کہ پیار کا آغاز ہمیشہ لڑائی سے ہی ہوتا ہے۔ بات آگے بڑھی اور بڑھتی ہی گئی۔ اور چند دنوں کے بعد انہوں نے ایک دوسرے کو پیار کے 'ٹریڈ مارک والے تین حروف' بول دیے۔ پیار کے آغاز میں ہر کوئی اس طرح انٹرویو کرتا ہے جیسے اس نے 'اینیمل پلینٹ' پر دس سال کوئی پروگرام  ہوسٹ کیا ہو۔میرے دوست نے بھی وہی کیا۔ باقی باتیں تو نارمل رہی یہاں تک کہ اس کا نام بھی کسی مرد کا نہیں ہو سکتا تھا۔ جب دوسری طرف سے محبوبہ نے تنخواہ کے بارے میں سوال و جواب شروع کیے تو اس طرف سے بھی عمر کا تقاضا ہوا۔ دراصل مجھے اسی دن سے اشعار سمجھ آنے لگ گئے تھے جب میرے دوست نے بتایا کہ اس نے جواب میں کہا
میدان وفا دربار نہیں یاں نام ونسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
اس نے اس شعر کے بعد یہ بھی لکھا شاعر یہاں عمر کا ذکربھی اس سیاق وسباق میں کرنا چاہتے تھے مگر پابندی بحر کی وجہ سے نہیں کر سکے۔
سمجھنے والوں کیلیے اشارے نہیں اشارہ کافی ہوتا ہے۔ پھر بھی صرف عمر کی وجہ سے کسی سے بے وفائی کرنا کوئی مناسب بات تو نہیں لہٰذا پیار کا یہ سفر جاری رہا۔اور سارے پوٹینشل بیریر ختم ہوئےیہاں تک کہ سکرین کے پردے پر وہ ایک دوسرے کو دیکھنے بھی لگ گئے۔ میرے دوست نے تو ایک دفعہ اچانک دیکھنے کی غلطی کی اس کے بعد اپنی تصویر ہی دیکھتا رہا۔ وہ اس ایک نظر پر خاصے پشیمان تھے مگر میں نے اسے کہا اتنی غلطی کی تو اسلام میں بھی گنجائش ہے، تم نے دوسری دفعہ تو اس کی طرف نظر نہیں اٹھائی تو کیا افسوس کیا پچھتاوا۔
یہ باتیں تو اچھے وقتوں کی تھیں۔ جب قربتیں بڑھتی ہیں تو شکایتیں بھی بڑھتی ہیں۔ کبھی کسی کو دوسرے کی بات بری لگی تو کبھی دوسرے کو۔ الف کہتے ہیں کہ جب مسلسل ایک ساتھ وہ میرے تین پوسٹ لائیک کرے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ وہ ناراض ہے۔آج میرے دوست انتہائی پریشان اس لیے ہیں کہ اس کی محبوبہ نے اس کے پانچ پوسٹ ایک ہی وقت میں لائیک کیے۔ دوست کہتا ہے مجھے معلوم ہے کہ تین لائیکس پر اسے کیسے منانا ہے مگر اب تو اس نے پانچ کر دیے۔
میں نے دوست سے کہا اگر یونس خان پانچ سو رنز ایک سیریز میں سکور کر سکتے ہیں، پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کو چونا لگا سکتی ہےاور مصباح ماسٹر بلاسٹر بن سکتے ہیں تو تین کی بجائے پانچ لائیکس کیوں نہیں کر سکتی؟ کہنے لگے یار وہ بہت کیلکولیٹو ہے وہ کوئی چیز جوش میں نہیں کر سکتی ( یو نوء وٹ آئی مین ) وہ تو ہر چیز نپی تلی انداز میں کرتی ہے۔ میں نے دوست سے کہا یار اس سے رابطہ کرو ناں ، کہنے لگے اس وقت وہ کہے گی آج اتوار ہے سارے گھر پر ہیں۔  میں نے اس سے کہا تم ش سے پوچھو وہ پرانے پاپی ہیں شاید وہ کچھ بتا دیں۔ اور پھر وہ تو اپنا پورا نیٹورک بھی فیس بک پر ہی چلاتے ہیں۔ کہنے لگے یار ش کے پاس تو اس عمر کی کوئی محبوبہ نہیں ہے۔ پھر میرے ذہن میں دوست ع کا نام آیا کہنے لگے بات صحیح ہے آپ کی کہ اس کی محبوبہ کسی پرانے دور کی ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ کسی دوست کی ایسی دوست نہیں جو عمر کے اس حصے میں ہو جہاں لڑکی ،لڑکی نہیں بلکہ لڑکی کی اماں بن کر سوچتی ہے۔ کہتا ہے المیہ تو یہ بھی ہے کہ اگر میں عشق جھاڑوں تو وہ کہتی ہے شرم کر عمر کا کچھ لحاظ کر اور جب نہیں جھاڑتا تو سیکینڈوں میں تین تین لائیک فیس بک پر دے جاتی ہے۔
میں نے اسے سمجھایا اتنے پریشان مت ہو ، یہ مسئلہ جز وقتی بھی ہو سکتا ہے،ہو سکتا ہے
عشق دا وائرس لگیا دل دے سافٹ وئیر میں
فیس بک پر ان لائیک کا بھی آپشن ہے ناں۔ ایک لمبی سانس بھری اور کہا، ہاں ہے تو ،مگر کلک کرنا پڑتا ہے۔  
ابھی تک عشق کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ جیسے ہی یہ رابطہ معطل ہو گا ہم آپ کو براہ راست لیے چلیں گے۔

یہ باتیں قومی نشریاتی رابطے پر پیش کی گئیں۔ 

0 comments:

Post a Comment

 
;