Thursday, 16 April 2015

کیا ضرورت ہے ؟

کیا ضرورت ہے ؟


اس عنوان کے نیچے ابھی تک میں نے صرف نو لفظ لکھے ہیں۔ میں یہ لکھنے سے پہلے بھی یہی سوچ رہا تھا اور اب بھی میری سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں جب بھی اس سے کوئی کام کرنے کی اجازت مانگتا ہوں تو وہ اجازت تو دے دیتاہے مگر اس سے پہلے زیادہ تر وہ ایک بار ضرور کہتا ہے  ،آخر میرے ہوتے ہوئے اس کی کیا ضرورت ہے ؟  اور کبھی کبھار دل ہی دل میں کہتا ہوگا۔ ظاہر ہے میرے پاس اور کوئی جواب نہیں ہوتا ، میں کہتا ہوں تمہارے  ہوتے ہوئے ضرورت تو کوئی نہیں ہے مگر پھر بھی۔۔۔ وہ ہر دفعہ میرا فقرہ کاٹ کر کہتا ہے اچھا ناں کر لو۔ میں خوش ہوتا ہوں ، اور وہ کام کر بھی لیتا ہوں۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اگر وہ اجازت دیتاہے  تو آخر پہلے یہ کیوں کہتا ہے  کہ اس کی کیا ضرورت ہے؟


میں نے اس سے کسی ایسی چیز کی اجازت تو کبھی بھی نہیں مانگی جس سے میرے اور اس تعلق میں فرق آئے مگر پھر بھی اس نے کبھی خوشی خوشی اجازت نہیں دی۔ اب جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے لگتا  ہے کہ دنیا میں دو ہی چیزیں ہیں بس ، خوشی اور غم۔ اس کی بات صحیح ہے کہ اگر آپ کی خوشی میں کوئی خوش ہو کر ہنسنے والا ہو، چھلانگیں مارنے والا ہو  اور آپ کی کسی بھی اداس کردینے والی بات پر کسی کے آنسونکلتے ہوں تو اور کسی چیز کی  کیا ضرورت ؟ شاید وہ یہ سوچ کر سوال کرتا ہو کہ اس کی کیا ضرورت۔  یا یہ بھی عین ممکن ہے کہ جب بھی میں اس سے کسی کام کرنے کی اجازت لیتا ہوں تو وہ یہ سوچتا ہو  کہ اس کو یہ کام کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ شاید یہ سوچتاہوکہ  کیا میرے ہوتے ہوئے بھی شاید وہ نا مکمل ہے؟  ہو سکتا ہے اس کے پوچھنے کی وجہ یہ ہو کہ میرے ہوتے ہوئے اس کو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

ہاں اس آخری بات سے وہ بات یاد آ گئی جب وہ مجھ سے بار بار یہ کہتاہے کہ میں آپ کو زیادہ چاہتا ہوں۔  میں نے ہر وقت اس سے ثبوت مانگے، اس نے ٹھوس ثبوت تو کبھی نہیں دیے، مگر پھر بھی کیا معلوم واقعی میرے چاہنے میں کوئی کمی ہو۔ مگر کیسے کمی ہو سکتی ہے؟ میں نے ہر چیز سے زیادہ تو اسے ترجیح دی ہے۔ میں اس کی وہ باتیں بھی مانتا ہوں کہ بعد میں جن کو  سوچ کر میرے رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ میں نے اس کیلیے کئی دفعہ اپنی  زندگی بہت مشکل میں ڈال دی۔ بہت دفعہ اسی کی وجہ سے میں لوگوں کے سامنے حواس باختہ ہوا، بس پھر اللہ نے بچا لیا۔ اور میں کیا کروں اس کیلیے اور کیا کمی ہو سکتی ہے ؟  کوئی کمی نہیں ہے ۔

ہاں میں کچھ چیزوں میں نیگیٹو  ہوں ، مگر اس میں میرا کیا قصور یہ تو فطرت ہے ناں، میں جان بوجھ کر ایسا تھوڑی کرتا ہوں۔ اور پھر اس کے سمجھانے پر میں سمجھ بھی تو جاتا ہوں ناں، پھر اس پر اس سے اسی وقت معافی بھی تو مانگتا ہوں ناں؟ اور کیا کروں ، اور کیا کمی ہے مجھ میں ؟ اور پھر میری فرمائشوں پر اسے اعتراض تو کوئی نہیں ہے ، کیونکہ ان فرمائشوں میں کوئی قباحت ہی نہیں ہے۔  میں نے اس بات پر تو ہر دفعہ سوچا کہ "کیا ضرورت ہے" کہنے  کی وجہ کیا ہو سکتی ہے مگر اس پر کبھی نہیں سوچا کہ وہ آخر پھر اجازت ہی کیوں دیتاہے۔  اس کی ایک ہی وجہ دکھائی دیتی ہے وہ بس مجھے خوش دیکھنا چاہتا ہے، مگر اصل میں یہ منوا کر میں تو اسے خوش نہیں کر رہا ۔ اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے واقعی مجھ میں کچھ کمی ہے ، ہاں وہ زیادہ چاہتا ہے۔

ویسے اجازت کی ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے، مگر اب میں یہ بات اگر اس سے کہوں تو وہ پھر کہے گا دیکھو  تم نیگیٹو ہو، مگر وہ بات یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سوچتا ہو کہ اگر میں نے اسے اجازت نہیں دی تو اس نے کسی نہ کسی اور طریقے سے ضرور کرنا ہے۔ مجھے امید ہے وہ ایسا سوچ کر میری بات نہیں کاٹتا، وہ اس طرح نہیں سوچتا، وہ یہ سوچ کر اجازت نہیں دیتا۔ اگر وہ یہ سوچ کر اجازت دیتاہے تو پھر شاید کچھ عرصے بعد کسی فرمائش پر یہ بھی نہ کہے کہ اس کی کیا ضرورت ہے ؟ بس میرے پوچھتے ہی وہ کہہ دے کہ ہاں ناں کر لو۔ ویسے اُس وقت یہ دھاگہ ٹوٹنے والا ہو چکا ہو گا۔

مگر ویسے مجھے ان میں سے ضرورت تو کسی چیز کی بھی نہیں ہوتی،
 تو کیوں نہ آج کے بعد میں اس سے کوئی ایسی فرمائش ہی نہ کروں کہ اس کے جواب میں اسے پوچھنا پڑے کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔
کیوں نہ اس سے پہلے میں اپنی یہ عادت چھوڑ دوں کہ وہ یہ سوچنے لگے میں اس کیلیے نا کافی ہوں۔
کیوں نہ اس کو یہ گمان -کہ اگر میں نے روکا تو پھر بھی یہ کر لے گا -آنے سے پہلے میں خود ہی رک جاؤں۔
کیوں نہ میں بھی اس سے  یہ کہوں کہ میرے لیے تم کافی ہو جیسا کہ وہ کہتا ہے۔
کیوں نہ میں اس سے کہوں  کہ مجھے تمہارے ہوتے ہوئے کسی کی ضرورت نہیں۔
 کیوں نہ اس سے پہلے کہ وہ یہ سوال پوچھ لے  کہ  میرے بعد کیا آپ کو ان سب کی ضرورت پڑے گی میں اسے بتا دوں  اللہ نہ کرے کبھی آپ کا ساتھ نہیں بھی رہا تو میرے لیے آپ  کی یادیں کافی ہیں۔
کیوں نہ میں اس سے ابھی ہی یہ باتیں کہہ دوں کہ اسے کبھی اس طرح رات کے کسی پہر بلاگ لکھنے کی ضرورت نہ پڑے۔
 ہاں میں کہوں گا اس سے۔ 

2 comments:

Muhammad Yar Khan said...

Nice one, per yeh samj ne ai k yeh raz o nayaz ke batain kis say ho rahi hain aor kis ko kahain gay. keh bhe sakain gay k ne :-)

Pervaiz said...

بہت شکریہ یار صاحب۔ اور کوئی نہ ہو تو سیانے کہتے ہیں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔

Post a Comment

 
;