روائتیں بدل رہی ہیں
میں اوپر کھڑا دھوپ سینک رہا تھا جب وہ ٹوپی پہنے اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئےبہت ہی تیز
قدموں کے ساتھ نیچے روڈ پر گزرا۔ میرے فلیٹ کے سامنے گزرتے ہی اس کے موبائل کی
گھنٹی بجی۔ وہ رکا، جیب سے موبائل نکالا اور اسی جگہ پر کھڑا ہو کر چار پانچ منٹ
تک فون پر باتیں کیں ، فون جیب میں رکھا اور اسی تیزی کے ساتھ چل دیے۔ مجھے چند منٹ کیلیے حیرانی ہوئی کہ یہ چلتے
ہوئے بھی بات کرسکتا تھا آخر رکنے کی کی ضرورت تھی۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ
روایتیں بدل رہی ہیں ۔گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل نہیں بلکہ آج میں بہت سی چیزیں
نئی ہیں۔
پہلے لوگ چلتے ہوئے بھی کال سننے کیلیے رکتے تھے اب لوگ بائیک اور گاڑی
چلاتے ہوئے بھی کال سنتے ہیں۔
پہلے لوگ شاعری میں ردیف قافیہ اور بحر کا خیال رکھتے
تھے اب تخلص شعر ہونے کیلیے فرض عین ہے۔
پہلے لوگ اپنے بچوں کو کلمہ سکھاتے
تھے اب گالیاں سکھا کر وڈیو اپلوڈ کرتے ہیں۔
پہلے بچے ایپل کھاتے تھے اب اس پر کھیلتے ہیں۔
پہلے لوگ فروری میں ویلنٹائین ڈے کا انتطار کرتے تھے
اب انڈیا پاکستان میچ کا انتظار ہوتا۔
پہلے لوگ کہتے تھے کہ اس نے مجھے تنگ کیا اب کہتے ہیں
ہیں میری فیلنگز کو ہرٹ کیا۔
پہلے لوگ واش روم میں فریش ہونے کیلیے بیٹھ جاتے تھے
اب کینڈی کرش کھیل کر فریش ہوتے ہیں۔
پہلے لوگ کاغذ پر لکھا کرتے تھے اب واش روم کے
دیواروں پر۔
پہلے لوگ کسی سینری کے پاس تصویر بناتے تھے اب باتھ
رومز میں بناتے ہیں۔
پہلے لوگ منہ بند کر کے تصویر بنواتے تھے اب منہ کھول
کر۔
پہلے لوگ گھومنے پھرنے جاتے تھے اب فیس بک پر چیک ان
کرنے کیلیے جاتے ہیں۔
پہلے لوگ چہرے کی تصویر بناتے تھے اب چہرےکے علاوہ
اپنی پوری تصویر بناتے ہیں۔
پہلے لوگ گاؤن کے نیچے سوئیٹر پہنتے تھے اب گاؤن کے
اوپر۔
پہلے لوگ پی کوک والا برقہ پہنتے تھے اب سکارف پہن کر
سلیولیس پہنتے ہیں۔
پہلے لڑکے لڑکیاں تاڑتے تھے اب لڑکیاں بچوں کو چیک
کرتی ہیں۔
پہلی لڑکے لڑکیوں کا نمبر بڑی مشکل سے ڈھونڈھ نکالتے تھے
اب لڑکیاں اپنی سہیلی سے اس کے بھائی کا نمبر باآسانی حاصل کرتی ہیں۔
پہلے لوگ کہتے تھے کاش کوئی مجھ سے
پیار کرتا اب کسی سے کہو آئی لو یو تو آگے سے کہتے ہیں آئی ایم آلریڈے انوالوڈ۔
پہلے لوگ آئی مس یو کے جواب میں ،
آئی مس یو ٹو کہتے تھے اب الحمداللہ کہتے ہیں۔
پہلے لوگ نہر والی پل پر بلاتے تھے
اب سکائپ پر بلاتے ہیں۔
پہلے رانجھا ہیر کیلیے بانسری بجاتا
تھا اب ایزی لوڈ کرواتا ہے۔
پہلے فرہاد، شیریں کیلئے دودھ کی نہر لاتا تھا اب انٹرنیٹ کنیکشن
لاتا ہے۔
پہلے لوگ ٹویٹ دیکھ کر ری ٹویٹ کرتے
تھے اب پروفائل دیکھ کر۔
پہلے صرف فالورز ریٹویٹ کرتے تھے اب
ان فالورز بھی کرتے ہیں۔
پہلے خواتین اپنے بچوں کے تعداد پر
فخر کرتی تھیں. اب فالورز کے تعداد
پر.
پہلے لوگ استغراللہ کہنے کے بعد استغفراللہ ہی کہتے تھے
اب الحمداللہ کہتے ہیں۔
پہلے کتابیں بکتی تھیں امیر ہونے کے
سو طریقے اب ویب سائٹ بنتی ہیں ہنڈرڈ میتھڈز آف آن لائن ارننگ۔
پہلے جب لوگ کسی کو کہتے " تو
انسان ہے وے ؟" وہ
شرمندہ ہو جاتا تھا اب کہتا ہے نہیں میں فرشتہ ہوں۔
پہلے خواجہ آصف آرمی کے خلاف بولا
کرتے تھے اب وہ وزیر دفاع ہوتے ہیں ۔
پہلے شادی شدہ لوگ سمجھتے تھے یہ
چولیاں مارنا بچگانہ کام ہے اب سوشل میڈیا پر شادی شدہ لوگ اسے اپنا بنیادی حق
سمجھتے ہیں۔
پہلے لوگ کہتے ہیں اے اللہ میری زبان کو وہ طاقت دے کہ
میں ہر بات کا جواب دے سکوں اب ہر کوئی لاجواب بننے کی دعا کرتا ہے۔
پہلے ثریا حبیب ہوتی تھی اب حبیب سوریا ہوتا ہے۔
پہلے لوگ خوش ہو کر کہتے تھے کہ سواد
آ گیا اب کہتے ہیں واہ صواد آ گئی آن لائن۔
پہلے لوگ دیکھتے تھے کس نے مجھے فالو
کیا اب دیکھتے ہیں کس نے مجھے ان فالو کیا ۔
پہلے شیر بلی سے ڈرتا تھا اب بلے سے
ڈرتا ہے۔
پہلے عمران خان ڈائیورسڈ ہوتا تھااب میریڈ ہے۔

1 comments:
Nice. Acha likhte ho keep it up ... Wahab
Post a Comment