Wednesday, 26 February 2014

دل- واحد ٹوٹنے والی چیز

دل- واحد ٹوٹنے والی چیز


تنظیم اسلامی کی سپیشل ٹرین بہاولپور کیلئیے روانہ ہوئی تو میں نے پہلے سے یہ طے کر لیا کہ یہ سفر تو بور ہی گزرے گا۔ کیونکہ ایسا تو کچھ نہیں ہو گا جس سے کچھ رونق پیدا ہو ۔ کیونکہ تقریبا" سارے ہی باریش ، سنجیدہ آدمی اور انٹرٹینمنٹ نام کی چیز کا تصور ہی نہیں ہو سکتا تھا۔معمول کے مطابق نو بجے میں نے موبائل کے ذریعے دوستوں سے بات شروع کی۔ سامنے والی برتھ پر لیٹا انتہائی سنجیدہ دکھائی دینے والا سفید ریش مجھے گھور رہا تھا۔ میں نے چند منٹ بعد اس کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی پر تب تک وہ سو چکا تھا۔


میں بڑی دیر تک دوستوں سے باتیں کرتا رہا اور وہ بھی بے نیازی کے ساتھ سکون کی نیند کے مزے لوٹتا رہا۔ یہ رات یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی خاص رات ہو۔ اس لیے ہم دوست ایک انتہائی سنجیدہ موضوع پر انتہائی غیر سنجیدگی سے گفتگو کر رہے تھے۔بے وفا لوگوں کی طرح وقت نے بھی ایک سکینڈ کے لیے ہماری طرف نہیں دیکھا اور اپنی مقررہ رفتار کے ساتھ ہمیں پیچھے چھوڑتا چلا گیا۔موبائل کی بیٹری نے کم از کم اتنا ساتھ ضرور دیا کہ ہم کوئی نتیجہ نکالتے لیکن پھر بھی ڈیڑھ بجے ریل گاڑی میں جاگنے والا زی روح میں ہی تھا۔ 

میں نے اپنی طرف سے سونے کی ناکام کوشش ضرور کی پر کیا تھا کہ کیے گئے فیصلے کے ممکنہ نتائج پر بھی سوچنا لازمی تھا۔ سوچتے سوچتے دو تو بج ہی گئے تھے کہ سامنے والا سفید ریش اٹھا، اور دس منٹ بعد واپس آیا۔ جائے نماز بچھائی اور کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرنے لگے۔ اس نے آدھے گھنٹے میں شاید ہی دو رکعت مکمل کیے تھے کہ میں کسی تکیے کی جستجو میں سامان دیکھنے لگا۔ دستیاب سامان میں سے ایک بیگ مجھے تکیے کیلیے مناسب لگا ، میں نے اس کے اوپر سر رکھا اور تھوڑی دیر میں سو گیا۔

نجانے کتنا وقت گزرا ہوگا کہ اچانک یوں لگا جیسے کسی نے میرے سر کے اوپر ہاتھ رکھا ہو۔ میں جاگ گیا تو کیا دیکھتا ہوں وہی سفید ریش کھڑے ہیں اور پوچھنے لگے یہ بیگ آپ کا ہے ؟ میں نے کہا نہیں، ، ۔ کہنے لگے تو آپ ذرا اٹھیں ، میں اٹھا ، اس نے جائے نماز بیگ میں رکھ دی اور کہا بیٹے اب آپ سو جاو۔ میں نے کہا کوئی چیز ٹوٹنے والی تو نہیں ہے ؟ ہنستے ہوئے بولے " ایک چیز ٹوٹنے والی تھی ۔" میں نے جلدی سے پوچھا کیا چیز ؟ بولے "دل۔"

تب تک میری نیند بھی اکھڑ چکی تھی اس کے بیٹھتے ساتھ میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا۔ بیٹے، 'دنیا میں دل کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے ری پئیر نہ کیا جا سکے۔ ہاں اگر کوئی چیز ری پیئر نہیں ہوسکتی ، ری پلیس تو ہو سکتی ہے ناں۔'

پیٹے کسی کا دل مت توڑنا۔ آپ کو کوئی دل دینے میں پہل کرے تو اسے گنوانا بھی مت۔ پتہ ہے تم اس کیلیئے دنیا کی آخری انتہا ہو جاتے ہو۔ پیار ایک موذی مرض ہے ایک دفعہ شدید ہوتا ہے پھر دوسری دفعہ نہیں ہوتا۔ اب آپ کی قسمت ہوتی ہے،کہ بچ جاو یا پھر ۔۔۔۔۔۔

اور سنو کسی کو تم بچا سکتے ہو ناں، جس کیلیے مرض تم ہوتے ہو، تم اس کیلیے موذی تو نہ بنو ۔ اور اگر تم کسی کو دل دو تو اس کو اپنا ہی بنانا۔ کم از کم آخری حد تک یہ بات اسے جتلانا کہ آپ کو اس سے محبت ہے۔

بہت سے سوال میرے ذہن میں اٹھ رہے تھے لیکن میں کر نہیں پا رہا تھا کیوں کہ وہ تو پہلے ہی ان سوالوں کا جواب دے دیتا تھا۔

دوست ! اس نے میرے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا شاید آپ کو یہ جتلانے میں وقت لگے ۔ شاید کسی میں اقرار کا حوصلہ نہ ہو۔ شاید اس کے دل میں کوئی بات ہو پر وہ اپنے لبوں پر وہ بات نہ لاسکے۔ شاید اس کی کچھ مجبوریاں ہوں۔ تم اس کو حوصلہ دو ۔ آپ کا نام کیا ہے ؟

میں نے چونک کر جواب دیا، پرویز۔

پرویز یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ دلوں کا سودہ یک طرفہ ہو۔ یہ تو پہلے دن سے دو طرفہ ہے بس انحصار اس بات پر ہے کہ پہل کون کرتا ہے۔ وقت بہت ظالم چیز ہے یہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہاں ایک بے حس چیز۔ ۔۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے ۔ اب آپ سو جائیں۔

میں نے اس سے پوچھا اولڈ فرینڈ آپ کا تعارف ؟

بولے ، میں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایڈوائز ہوں۔ ہنستے ہوئے بولے میں وہاں کچھ اور ایڈوائز کرتا ہوں ، میری یہ ایڈوائز ایکسکلوسولی آپ کیلیے ہے۔ پرویز آپ تو اکیسویں صدی میں ہو، میں نے تو نصف صدی پہلے بغاوت کی تھی۔ میرے گھر والے بھی میری راہ میں رکاوٹ بنے ۔

میں نے کہا سر آپ کی کہانی کچھ بہت دلچسپ ہوگی پھر تو۔۔

کہنے لگے ، سنو گے ؟ (ہنستے ہوئے)

میں نے کہا سر عطا ہو۔ ہو سکتا ہے بلال لاشاری ایک اور 'وار' لگا سکیں۔

ہا ہا ، ہاں یار بچے نے ڈائریکٹ تو کمال کیا ہے۔ سٹوری میری بھی کچھ بری نہیں ہے لیکن مووی نہیں بن سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ ہیرو ناکام ہو گیا تھا۔

یار سٹوری فلاپ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہیروئن نے ساتھ نہیں دیا۔ میں پنجاب یونیورسٹی میں اپنا بیچلر کر رہا تھا کہ وہ بلا مجھے ہو گئی جسے عشق کہتے ہیں۔ اس کا تعلق پشاور سے تھا۔ آپ کو معلوم ہے وہ بہت روایت پسند لوگ ہیں ۔ ان کے اپنے رسم و رواج اور وہی بابا آدم زمانے کے فلسفے۔

میں نے کہا سر اس میں اس کا تو کوئی قصور نہیں تھا ناں، اس کی مجبوریاں تھیں ۔

کہنے لگے۔ اوہ ، پھر میں آپ کو سمجھا کیا رہا ہوں۔ اس نے اپنی فیملی کے سامنے ذرہ برابر ریزسٹ نہیں کیا۔ ہم اب بھی ملتے ہیں کبھی تو ایک عجیب کیفیت ہو جاتی ہے۔ اس کی چھوٹی بہن نے ریزسٹ کیا اور وہ کامیاب ہوئی۔ ہاں اس کو یہ ایج حاصل تھی دیٹ شی سپورٹڈ ہر۔

دیکھو یار نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔ میرے پیچھے نماز پڑھو گے ؟ (ہنستے ہوئے)

میں نے کہا کیوں نہیں۔ سر آپ تو میرے امام ہو۔ نماز پڑھی اور پھر ہاتھ اٹھا کر نجانے اس نے اللہ تعالی سے میرا نام لے کر کیا باتیں کیں۔  

0 comments:

Post a Comment

 
;